خاک ہوجائینگے ہم ، تم کو خبر ہونے تک

محترم اذلان اسلم صاحب کا شمار پاکستان کے ان عظیم فرض شناس بیٹوں میں ہوتا ہے جو ملک و قوم کی خاطر اپنی زندگی کو قربان کرنے سے نہیں کتراتے . ڈیوٹی کے دوران ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعیات اتنے پرخطر ہوتے ہیں کہ دیکھ کر انسان کے رونگٹھے کھڑے ہوجائیں . ان کی پاکستان سے بے پناہ محبت ، فرض شناسی اور اعلی علمی قابلیت کودیکھ کر لکھنے پر مجبور ہوا . محترم اذلان اسلم صاحب ایکسائز پولیس اسٹیشن مردان ریجن میں ایڈیشنل ایس ایچ او کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں . منشیات بیچنے والے موت کے سوداگروں اور مافیاز پر انکی گرفت اتنی سخت ہے کہ یہ لوگ ہر ممکن حربوں اور دھمکیوں سے ملک و قوم کے اس قابل فخر بیٹے کوہراساں کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں مگر یہ ہمیشہ سے کسی آہنی چٹان کی طرح انکے راستے کی رکاوٹ بنا رہا . ان کی متعدد اعزازات کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی لیول کی اعلی تعلیم انتہائی غیر معمولی خوش اخلاق طبیعت اور شہدا پولیس کے بچوں سے والہانہ محبت اورشفقت نے مجھے انکا گرویدہ بنایا ہوا ہے .

میں انکو فیس بک پر عرصہ دراز سی فالو کر رہا ہوں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ یہ الله کا بندا ہر خاص و عام کو فیس بک کے کمنٹس میں ناصرف ان کے سوالات کے جوابات دیتا ہے بلکہ اگر اپ ان سے ملاقات یا فون پر بات بھی کرنا چاہے تو کر سکتے ہیں . میں روز فیس بک پر دیکھتا ہوں کہ انکے اور انکے ساتھیوں کے ہاتھوں سے مختلف جرائم پیشہ لوگ بھاگتے وقت کس قدر خوفناک حادثاتی حالات کے دوران پکڑے جاتے ہیں مگر پھر بعد میں یہ لوگ کسی نہ کسی طریقے سے رہائی پا لیتے ہیں . ان کے ہمارے نظام سے بھی بہت زیادہ گلے شکوے ہیں جن کا اظہار یہ اپنے فیس بک پر کبھی کبھار کرتے رہتے ہیں مگر یہ ان سب کمزوریوں کے باوجود آج تک ثابت قدمی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہے .

میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے ذمہ داران سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے اس قسم کے بیٹوں کا حد سے زیادہ خیال رکھا جائے کیونکہ ایسے جانثارغیر معمولی ہیرے اور نگینے اداروں کو روز نہیں ملا کرتے .

میں یہاں ایکسائز پولیس کے تمام اعلی افسران ، شہدا اورسپاہیوں کو دل کی گہرائیوں سے وطن عزیز پاکستان کی خلوص سے خدمت کرنے اور معاشرے سے جرائم ختم کرنے کی بے مثال جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں .

آخر میں میں آپ لوگوں کومحترم اذلان اسلم صاحب کے فیس بک کے کچھ پوسٹ دکھانا چاہونگا جس سے اپ کو با آسانی اندازہ ہو پائیگا کہ یہ اور انکے ساتھی کس قسم کے پرخطر حالات میں اپنے سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں .

اس معاشرے کے بچوں کے لئے ان کے تاثرات …

ویڈیو میں دکھنے والی ماں شاید اپنے نشئی بیٹے کو گھر لے جانے کی ناکام کوشش کررہی ہے- نا جانے کتنی ایسی مائیں اپنے بچوں کیلئے فٹپاتوں اور چوراہوں پر خوار ہورہی ہونگی- میری قانون نافذ کرنے والے بھائیوں سے گزارش ہے کہ تھوڑی لالچ میں آکر کسی سمگلر کسی نشہ بیچنے والے بندے کو نہیں چھوڑنا- یہ حال آپکے خاندان میں بھی کسی کا ہوسکتا ہے اور میری عوام سے بھی گزارش ہے کہ یہ بوجھ صرف ادارے ہی نہیں اٹھا سکتے آپ بھی آگے بڑھیں کسی نشئی کا علاج کروادیں، کسی کو اسکے گھر کی راہ دکھا دیں-

چھوٹی سی کہانی؛ واردات در واردات کی

فروری 2020 کو ہم نے گرفتار کیا- عدالت نے 5 ماہ بعد بری کردیا- اس کے بعد آسلام آباد میں واقع ایک گھرمیں اصلحہ سمیت گھس کر ڈکیتی کر ڈالی اور دوبارہ گرفتار ہوئے- اب چند دنوں بعد دوبارہ قانون کے داو پیچ لڑتے ہوئے واپس باہر آجائینگے اور پتہ نہیں اگلی بار کس کے گھر میں گھس کر انکا مال اور انکی عزتیں لوٹینگے- جتنی مشکل سے یہ لوگ گرفتار ہوتے ہیں شاید ہی کسی کو اسکا احساس ہو-

سمگلروں کا پیچھا کرتے ہوۓ …

محترم اذلان اسلم صاحب اپنی ڈیوٹی کے دوران …

میڈیا پر سننے میں ایک عام سی خبر ہوتی ہے کہ محکمہ ایکسائز پولیس خیبر پختونخواہ نے منشیات کے سمگلرز یا کارلفٹرز کو گرفتار کرلیا یا ملزم فرار ہوگیا- اس خبر کے پیچھے ایک طویل مشقت ہوتی ہے جس کی چند ایک جھلکیاں آپکو دکھا رہا ہوں- یہ ویڈیو پرانی ہے لیکن ایسے واقعات ہمارے روزمرہ کا معمول ہوتے ہیں- اس ویڈیو میں آپکو یہ ظاہر ہوجائے گا کہ ملزمان فرار کیسے ہوتے ہیں اور وہ آخر تک کتنی کوشش کرتے ہیں کہ گرفتاری سے بچ سکیں اور اسی کوشش میں اکثر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں جو اداروں کے بارے میں ایک عام تاثر بناتے ہیں کہ ادارے نے پیسے لیکر چھوڑ دیا حالانکہ ہم آخر تک اپنی کوشش کرتے ہیں اور اپنی پوری جان مارتے ہیں-

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں